منگلورو10جنوری (ایس او نیوز) شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کے بعد منگلورو میں 19/دسمبر کو جو تشددپھوٹ پڑا تھا اور پولیس نے لاٹھی چارج اور فائرنگ کے علاوہ عوام پر جو ظلم ڈھائے تھے، اس کے تعلق سے سابق وزیراعلیٰ کمارا سوامی نے ریاستی حکومت پر بہت بڑا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس شہر کو کشمیر بنانے پر تُلی ہوئی ہے۔
کمارا سوامی نے پولیس کے نامناسب رویے اور منصوبہ ظلم و ستم کے تعلق سے حقائق پر مبنی مختلف 35ویڈیو فوٹیج کلپس پر مشتمل تقریباً 26منٹ کی ایک سی ڈی جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ثبوت پولیس کی من گھڑت کہانیوں کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے غلط اقدامات نہ کیے ہوتے اورپولیس اپنے ضابطے اور قانون کے مطابق کام کرتی تو منگلورو میں اس طرح کے برے حالات سامنے نہیں آئے ہوتے۔ انہوں نے پوچھا کہ دوسرے اضلاع میں بھی احتجاج کے دوران کشیدگی پید ا ہوئی تھی، مگر وہاں ایسا کیوں نہیں ہوا جو منگلورو میں ہواتھا۔کماراسوامی نے کہا کہ عوام کو اس زاویے سے سوچنا چاہیے،ا ور نتائج اخذ کرنا چاہیے۔
کماراسوامی نے منگلورو کی بدامنی کے لئے براہ راست پولیس کمشنر پی ایس ہرشا کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا انہیں اس عہدے سے فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ اڈپی ڈپٹی کمشنر کومیجسٹریل جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ لیکن”اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حکومت کی منشاء کے مطابق ہی اپنی رپورٹ داخل کریں گے۔جو لوگ عوامی سماعت کے دوران حاضر ہوئے تھے، انہوں نے ہی یہ ویڈیو کلپس فراہم کی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے غلطی کی ہے۔“
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ دکانوں کے سامنے کھڑے ہوئے لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئی ہیں۔جس ٹیمپو رکشہ پر تشدد کے لئے پتھر بھرکر لانے کی بات پولیس بتارہی ہے،”اس رکشہ پر چار مرتبہ دوسرے مقام پر پتھر لے جائے گئے تھے۔وہ رکشہ اس مقام پر جان بوجھ کر لایا نہیں گیا تھا۔ اس معاملے کوصحیح طورپر سمجھنے کے لئے میں نے مکمل ویڈیو پیش کیا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ”سٹی زنس فورم کی طرف سے تین اراکین پر مشتمل عوامی تحریک اور جنتا عدالت قائم کی گئی تھی۔ جس میں ریٹائرڈ جسٹس گوپال گوڈااور سوگاتا سرینواس بھی شامل تھے۔ لیکن جب جنتا عدالت منعقد کرنے کی کوشش کی گئی تو ایک سب انسپکٹر نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ اختیار پولیس کو کس نے دیا ہے۔ میں اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھاؤں گا۔میں کشیدگی اور بدامنی سے متعلقہ دستاویزات جمع کرلیے ہیں۔ میں یہاں پر پولیس کی طرف سے کی گئی فاش غلطیوں کو عیاں کروں گا۔حکومت اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے حقائق کوتوڑمروڑ کرپیش کررہی ہے۔“